المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ باب: ذکرِ الٰہی کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ قَالَ : سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْقَرَّاظِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسِيرُ بِالدُّفِّ مِنْ جُمْدَانَ إِذِ اسْتَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ ، أَيْنَ السَّابِقُونَ ؟ " فَقُلْتُ : قَدْ مَضَى نَاسٌ وَتَخَلَّفَ نَاسٌ . فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ السَّابِقُونَ الَّذِينَ يَسْتَهْتِرُونَ بِذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْتَعَ فِي رِيَاضِ الْجَنَّةِ فَلْيُكْثِرْ مِنْ ذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ (سفر کے دوران) جمدان کے مقام سے گزر رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کے چہرہِ انور پر مسرت کے آثار نمایاں ہوئے اور آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے معاذ! سبقت لے جانے والے کہاں ہیں؟“ میں نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) کچھ لوگ آگے نکل گئے ہیں اور کچھ پیچھے رہ گئے ہیں۔ تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”سبقت لے جانے والے وہ لوگ ہیں جو اللہ عزوجل کے ذکر میں ہمہ وقت مگن اور مستغرق رہتے ہیں؛ لہٰذا جو شخص یہ پسند کرے کہ وہ جنت کے باغات میں خوب سیر کرے اور وہاں کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو، اسے چاہیے کہ کثرت سے اللہ عزوجل کا ذکر کیا کرے۔“
اس حدیث کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی ضعیف راوی ہے، تاہم کثرتِ ذکر کرنے والوں کی فضیلت کے متعلق اس کا شاہد صحیح مسلم میں "المفردون" کے تذکرے کے ساتھ موجود ہے۔