❮
❯
حدیث نمبر: 3391
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ عَنْتَرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " ذِكْرُ اللهِ ، اللهُ أَكْبَرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
ثُمَّ قَالَ : مَا جَلَسَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَتَدَارَسُونَ كِتَابَ اللهِ تَعَالَى ، وَيَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ ، إِلَّا أَظَلَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا ، وَإِلَّا كَانُوا أَضْيَافَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى يَقُومُوا .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کا ذکر کرنا“ اور پھر تین مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔
پھر انہوں نے فرمایا: ”جو لوگ بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر (مسجد) میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا باہمی درس و تدریس کرتے ہیں اور اسے ایک دوسرے کو سکھاتے ہیں، تو فرشتے اپنے پروں سے ان پر سایہ فگن ہو جاتے ہیں، اور وہ جب تک وہاں سے اٹھ نہ جائیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے معزز مہمان ہوتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3391
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح إلى ابن عباس رضي الله عنهما، ومثله له حكم الرفع. »
«أخرجه مسند الدارمي برقم: 357، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3021، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 26638»