❮
❯
حدیث نمبر: 3390
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَحْرٍ ، ثَنَا عَدِيُّ ابْنُ أَبِي عُمَارَةَ ، ثَنَا زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ وَاضِعٌ خَطْمَهُ عَلَى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ ، فَإِنْ ذَكَرَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَنَسَ ، وَإِنْ نَسِيَ الْتَقَمَ قَلْبَهُ ، فَذَلِكَ الْوَسْوَاسُ الْخَنَّاسُ " .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک شیطان نے اپنی تھوتھنی (سونڈ نما منہ) ابنِ آدم کے دل پر جما رکھی ہے، پس جب وہ اللہ عزوجل کا ذکر کرتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ کر دبک جاتا ہے، اور جب وہ اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتا ہے تو شیطان اس کے دل کو لقمہ بنا لیتا ہے، اور یہی ﴿الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ﴾ [سورة الناس: 4] (یعنی بار بار وسوسہ ڈالنے اور ذکرِ الہی سے پیچھے ہٹ جانے والے) کی حقیقت ہے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی زیاد النمیری کو اکثر محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم اس حدیث کا مفہوم قرآنِ کریم کی آیات اور دیگر صحیح احادیث کے شواہد سے ثابت اور تائید یافتہ ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3390
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد ضعيف فيه علتان:، 1 - محمد بن بحر ضعيف.، 2 - زياد النميري ضعيف. »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 4301»