المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ باب: ذکرِ الٰہی کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، مَوْلَى غُفْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ خَالِدِ بْنِ صَفْوَانَ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ لِلهِ تَعَالَى سَرَايَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ تَحِلُّ ، فَتَقِفُ عَلَى مَجَالِسِ الذِّكْرِ فِي الْأَرْضِ ، فَارْتَعُوا فِي رِيَاضِ الْجَنَّةِ " . قَالُوا : وَأَيْنَ رِيَاضُ الْجَنَّةِ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَجَالِسُ الذِّكْرِ ، فَاغْدُوا وَرُوحُوا فِي ذِكْرِ اللهِ تَعَالَى ، وَذَكِّرُوهُ بِأَنْفُسِكُمْ ، مَنْ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَتَهُ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى فَلْيَنْظُرْ كَيْفَ مَنْزِلَةُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَهُ ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يُنْزِلُ الْعَبْدَ مَنْزِلَتَهُ حَيْثُ أَنْزَلَهُ مِنْ نَفْسِهِ .
3387 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ هُوَ ابْنُ خَارِجَةَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ نَحْوَهُ
3387 \ 3 - وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنِي حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، بِهِ
3387 \ 4 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ هُوَ الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، بِهِ
3387 \ 5 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ فَذَكَرَهُ
قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! یقیناً اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کے ایسے دستے اور گروہ ہیں جو (آسمان سے) اترتے ہیں اور زمین پر ذکر کی محفلوں میں قیام کرتے ہیں، لہٰذا تم جنت کے باغات میں خوب چر چگ لیا کرو (یعنی ان سے فیض حاصل کیا کرو)۔“ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! جنت کے باغات کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ذکر کی محفلیں ہی جنت کے باغات ہیں، پس تم صبح و شام اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہا کرو اور اپنے دل و جان سے اسے یاد کیا کرو؛ جو شخص یہ جاننا چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے، اسے چاہیے کہ وہ یہ دیکھ لے کہ اس کے اپنے نزدیک اللہ عزوجل کا کیا مقام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے کو اسی مقام و مرتبے پر فائز کرتا ہے جو مقام وہ بندہ اپنے نفس میں اللہ تعالیٰ کو دیتا ہے۔“
3387 \ 2 - امام احمد بن منیع نے ہیثم بن خارجہ، اسماعیل بن عیاش اور عمر بن عبداللہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3387 \ 3 - امام عبد بن حمید نے حبّان بن ہلال اور بشر بن مفضل کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
3387 \ 4 - امام ابو یعلیٰ نے عبید اللہ قواریدی اور بشر بن مفضل کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
3387 \ 5 - امام بزار نے محمد بن عبدالملک اور بشر بن مفضل کی سند سے اسے ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ حدیث سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے اس کے علاوہ کسی اور سند سے مروی ہو۔