المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ باب: ذکرِ الٰہی کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3388
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ - هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ بُقْعَةٍ ذُكِرَ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهَا ( لِلصَّلَاةِ ) أَوْ ذِكْرٍ ، إِلَّا اسْتَبْشَرَتْ بِذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مُنْتَهَاهَا مِنْ ( سَبْعِ ) أَرَضِينَ ، وَإِلَّا فَخُرَتْ عَلَى مَا حَوْلَهَا مِنَ الْبِقَاعِ .
3388 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ثَنَا مُوسَى بِهِ ، وَزَادَ : ( وَ ) مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُومُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ إِلَّا زُخْرِفَتْ لَهُ الْأَرْضُ " .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”زمین کا کوئی بھی ایسا قطعہ نہیں ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، خواہ وہ نماز کی صورت میں ہو یا کسی اور ذکر کی شکل میں، مگر وہ اپنے اوپر ہونے والے اللہ عزوجل کے اس ذکر کی وجہ سے ساتوں زمینوں کی انتہا تک خوشی و شادمانی محسوس کرتا ہے، اور وہ اپنے گرد و نواح کے دیگر خطوں پر فخر و مباہات کرتا ہے۔“
اور امام ابو یعلیٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ: ”اور جو بھی بندہ زمین کے کسی چٹیل میدان یا بیابان میں نماز کی نیت سے کھڑا ہوتا ہے، تو زمین اس کے لیے آراستہ و پیراستہ کر دی جاتی ہے۔“