المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الحمد باب: حمد و ثنا کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، ثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْحَمْدُ لِلهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِ ؟ " قَالَ : فَسَكَتَ الرَّجُلُ ، وَرَأَى أَنَّهُ قَدْ هَجَمَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ كَرِهَهُ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هُوَ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ إِلَّا صَوَابًا ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا قُلْتُهَا يَا رَسُولَ اللهِ أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ .
قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ ثَلَاثَةَ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَ كَلِمَتَكَ أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں یہ کلمات کہے: «الْحَمْدُ لِلهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ایسی تعریف جو کثرت والی، پاکیزہ اور بابرکت ہو“۔ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”ان کلمات کا کہنے والا کون ہے؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص خاموش رہا، کیونکہ اسے گمان ہوا کہ شاید اس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے کوئی ایسی بات اچانک کہہ دی ہے جو آپ ﷺ کو ناپسند گزری ہو۔ آپ ﷺ نے دوبارہ دریافت فرمایا: ”وہ شخص کون ہے؟ کیونکہ اس نے نہایت درست اور حق بات کہی ہے“۔ اس پر اس شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کلمات میں نے کہے تھے اور میرا مقصد ان کے ذریعے محض خیر و بھلائی کی امید رکھنا تھا۔
تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میں نے تیرہ فرشتوں کو دیکھا جو تمہارے ان کلمات کی طرف ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لیے لپک رہے تھے کہ ان میں سے کون پہلے اسے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں بلند کر کے لے جائے“۔