المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ ختم المجلس باب: مجلس ختم کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ) أَنَّهُ جَلَسَ مَجْلِسًا فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ قَالَ " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " . قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : مَا هَذَا الْحَدِيثُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَلِمَاتٌ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَفَّارَاتٌ لِخَطَايَا الْمَجْلِسِ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، وَأَبُو مَعْشَرٍ كُوفِيٌّ اسْمُهُ : زِيَادُ بْنُ كُلَيْبٍرسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے، پس جب انہوں نے وہاں سے اٹھنے کا ارادہ کیا تو یہ کلمات کہے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو اپنی تعریفوں کے ساتھ پاک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری ہی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں“، تو وہاں موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسی گفتگو (یا دعا) ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ کلمات ہیں جو مجھے جبریل علیہ السلام نے سکھائے ہیں، یہ مجلس کے دوران ہونے والے گناہوں اور لغزشوں کا کفارہ ہیں۔“
اس کی سند صحیح ہے، اور ابو معشر کوفی ہیں جن کا نام زیاد بن کلیب ہے۔