المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ الدُّعَاءِ عَلَى النفس والولد باب: اپنے آپ اور اولاد کے خلاف بددعا کرنے کی ممانعت کا بیان۔
( 131 ) حَدِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ أَبِي عَنْبَسَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقَدَّمَ فِي النِّكَاحِ .سیدہ میمونہ بنت ابی عنبسہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث کا تذکرہ کتاب النکاح (نکاح کے ابواب) میں پہلے تفصیلاً گزر چکا ہے۔
یہ روایت سنن ابن ماجہ (حدیث: 1938) میں مروی ہے اور مؤلف نے یہاں اسے محض سابقہ مقام کی طرف اشارے کے طور پر درج کیا ہے تاکہ تکرار سے بچا جا سکے۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدْعُوا عَلَى أَوْلَادِكُمْ ، أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ إِجَابَةً مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی اولاد کے حق میں ہرگز بددعا نہ کیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ وقت اللہ عزوجل کی طرف سے قبولیت کا ہو اور تمہاری وہ بددعا ان کے حق میں قبول کر لی جائے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، جس کی سند میں عبد اللہ بن جعفر بن نجیح اگرچہ کلام سے خالی نہیں، تاہم صحیح مسلم میں سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث (رقم: 3009) اس کی شاہد ہے جس سے اس کے متن کی اصل ثابت ہوتی ہے۔