المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ أَفْضَلِ الدُّعَاءِ باب: سب سے افضل اور برتر دعا کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ ، ثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ، ثَنَا عُمَرُ قَالَ : سَمِعْتُ الْفَضْلَ بْنَ ثَوْرٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي فُلَانٌ ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ تَعَالَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا قِيلَ ، وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ قَبْلُ كَلِمَةً هِيَ أَفْضَلُ مِنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَلَا سَأَلَ السَّائِلُونَ مِنْ رَبِّهِمْ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنَ الْمَغْفِرَةِ " .ایک غیر متعین راوی سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہ تو کبھی ایسی بات کہی گئی ہے، اور نہ ہی کسی نے اس سے قبل کوئی ایسا کلمہ زبان سے نکالا جو «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں“ سے بڑھ کر فضیلت والا ہو، اور نہ ہی بارگاہِ الٰہی میں التجا کرنے والوں نے اپنے پروردگار سے کسی ایسی شے کا سوال کیا جو مغفرت اور بخشش سے زیادہ بہتر اور افضل ہو۔“
اس حدیث کی سند میں ایک راوی کا نام غیر واضح (مبہم) ہونے کی وجہ سے اس کی فنی حیثیت ضعیف ہے، تاہم کلمہ توحید کی فضیلت اور اللہ سے معافی مانگنے کی اہمیت دیگر مستند اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ تخریج: مسند ابی یعلی: 3372۔