المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ مَا يَقُولُ مِنْ يسافر باب: اس باب میں ان کلمات کا بیان ہے جو سفر کرنے والا شخص اپنی زبان سے ادا کرے۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسَاوِرٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمْ يُرِدْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا قَطُّ إِلَّا قَالَ حِينَ يَنْهَضُ مِنْ جُلُوسِهِ : " اللَّهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ ، وَإِلَيْكَ تَوَجَّهْتُ ، وَبِكَ اعْتَصَمْتُ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِي ، وَأَنْتَ رَجَائِي ، اللَّهُمَّ اكْفِنِي مَا أَهَمَّنِي وَمَا لَا أَهْتَمُّ بِهِ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، وَزَوِّدْنِي التَّقْوَى ، وَاغْفِرْ لِي ، وَوَجِّهْنِي لِلْخَيْرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهْتُ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب کبھی کسی سفر کا ارادہ فرمایا تو اپنی نشست سے اٹھتے وقت یہ کلمات ضرور ارشاد فرمائے: ”«اللَّهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ، وَإِلَيْكَ تَوَجَّهْتُ، وَبِكَ اعْتَصَمْتُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِي، وَأَنْتَ رَجَائِي، اللَّهُمَّ اكْفِنِي مَا أَهَمَّنِي وَمَا لَا أَهْتَمُّ بِهِ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، وَزَوِّدْنِي التَّقْوَى، وَاغْفِرْ لِي، وَوَجِّهْنِي لِلْخَيْرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهْتُ» اے اللہ! تیری ہی توفیق و مدد سے میں (سفر پر) روانہ ہوا ہوں، تیری ہی طرف میں نے رخ کیا ہے اور تیری ہی پناہ میں نے لی ہے۔ اے اللہ! تو ہی میرا معتمد (قابلِ بھروسہ) ہے اور تو ہی میری جائے امید ہے؛ اے اللہ! ان تمام امور میں میری کفایت فرما جنہوں نے مجھے فکر مند کر رکھا ہے اور ان میں بھی جن کی میں (اپنی غفلت سے) پروا نہیں کرتا اور ان معاملات میں بھی جنہیں تو مجھ سے بہتر جانتا ہے، مجھے تقویٰ کا زادِ راہ عطا فرما، میری مغفرت فرما، اور میں جہاں کہیں بھی رخ کروں میری رہنمائی خیر و بھلائی کی طرف فرما۔“
[أخرجه أبو يعلى الموصلي في مسنده: 3374، وإسناده ضعيف لضعف عمر بن مساور العجلي]