المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا خرج مِنْ بيته باب: اس باب میں ان دعاؤں اور کلمات کا بیان ہے جو انسان اپنے گھر سے نکلتے وقت کہتا ہے۔
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِي رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ " .سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”رسول اللہ ﷺ جب میرے گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو اپنا سرِ مبارک آسمان کی طرف بلند فرماتے اور یہ دعا مانگتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں (حق سے) پھسل جاؤں یا راہِ راست سے بھٹک جاؤں، یا میں کسی پر ظلم و زیادتی کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں کسی کے ساتھ نادانی و جہالت کا برتاؤ کروں یا کوئی میرے ساتھ نادانی کا معاملہ کرے۔““
اس حدیث کو امام طیالسی نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں ابوبکر الہذلی ضعیف راوی ہے، تاہم اس دعا کے شواہد سننِ اربعہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے موجود ہیں جو کہ سنداً صحیح ہے۔