❮
❯
حدیث نمبر: 3364
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، قَالَ : إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُؤَرَّقُ أَوْ أَصَابَهُ أَرَقٌ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَعَوَّذَ عِنْدَ مَنَامِهِ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ .
ترجمہ

محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بے خوابی کا شکار ہو گئے تھے یا انہیں نیند نہ آنے کی تکلیف لاحق ہو گئی تھی، چنانچہ انہوں نے اس بات کی شکایت نبی کریم ﷺ سے کی تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ بستر پر لیٹتے وقت اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے ان الفاظ میں پناہ مانگا کریں: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ» ”میں اللہ کے کامل و اکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اس کے غضب سے، اس کی سزا سے، اس کے بندوں کے شر سے، اور شیطانوں کے وسوسوں و اکساہٹوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں۔“
اس حدیث کو امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، یہ روایت مرسل ہے کیونکہ محمد بن یحییٰ کا سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں، تاہم دعا کے اذکار میں یہ کلمات دیگر صحیح احادیث میں بھی وارد ہوئے ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3364
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإِسناد رجاله ثقات، لكنه، ضعيف »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 935، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 17067، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 10827، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6203»