المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أرق باب: بے خوابی کے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، قَالَ : إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُؤَرَّقُ أَوْ أَصَابَهُ أَرَقٌ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَعَوَّذَ عِنْدَ مَنَامِهِ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ .محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بے خوابی کا شکار ہو گئے تھے یا انہیں نیند نہ آنے کی تکلیف لاحق ہو گئی تھی، چنانچہ انہوں نے اس بات کی شکایت نبی کریم ﷺ سے کی تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ بستر پر لیٹتے وقت اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے ان الفاظ میں پناہ مانگا کریں: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ» ”میں اللہ کے کامل و اکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اس کے غضب سے، اس کی سزا سے، اس کے بندوں کے شر سے، اور شیطانوں کے وسوسوں و اکساہٹوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں۔“
اس حدیث کو امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، یہ روایت مرسل ہے کیونکہ محمد بن یحییٰ کا سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں، تاہم دعا کے اذکار میں یہ کلمات دیگر صحیح احادیث میں بھی وارد ہوئے ہیں۔