المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا استيقظ باب: اس بیان میں کہ جب آدمی نیند سے بیدار ہو تو اسے کیا کہنا چاہیے۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، ثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ إِسْحَاقَ ابْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْتَيْقِظُ ، وَقَدْ رَدَّ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ رُوحَهُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
قُلْتُ : إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ مِنْ أَجْلِ إِسْحَاقَ .
3363 \ 2 - وَقَدْ أَخْرَجَهُ ابْنُ السُّنِّيِّ فِي عَمَلِ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ مِنْ طَرِيقِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ .
وَأَظُنُّ إِسْمَاعِيلَ غَلِطَ فِيهِ ، وَإِنَّمَا هُوَ حَدِيثُ إِسْحَاقَ ابْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے بیدار ہوتے وقت، جبکہ اللہ تعالیٰ اس کی روح اسے لوٹا چکا ہو، یہ کلمات کہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، کائنات کی بادشاہت اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے مخصوص ہیں، ہر قسم کی خیر و بھلائی اسی کے دستِ قدرت میں ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے“، تو اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اگرچہ وہ کثرت میں سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“
میں کہتا ہوں کہ اس کی سند اسحاق (بن ابی فروہ) کی وجہ سے ضعیف ہے۔ امام ابن السنی نے اسے اپنی کتاب ’عمل الیوم واللیلہ‘ میں اسماعیل بن عیاش کے طریق سے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے اور انہوں نے موسیٰ بن وردان کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ میرا گمان یہ ہے کہ اسماعیل سے اس سند کے بیان میں غلطی ہوئی ہے، درحقیقت یہ اسحاق بن ابی فروہ ہی کی حدیث ہے، واللہ اعلم۔