المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَخْذِ مضجعه باب: اس باب کا بیان کہ جب انسان اپنی آرام گاہ یا بستر پر لیٹے تو اسے کیا کہنا چاہیے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، ثَنَا يُونُسُ هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِفِرَاشِهِ فَيُفْرَشُ لَهُ فَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ ، فَإِذَا أَوَى إِلَيْهِ تَوَسَّدَ كَفَّهُ الْيُمْنَى ، ثُمَّ هَمَسَ لَا نَدْرِي مَا يَقُولُ ، فَإِذَا كَانَ فِي آخِرِ ذَلِكَ رَفَعَ صَوْتَهُ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، إِلَهَ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ " .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ اپنے بستر کے بارے میں حکم فرماتے تو وہ آپ ﷺ کے لیے بچھا دیا جاتا، پھر آپ ﷺ قبلہ رخ ہو جاتے، پس جب آپ ﷺ آرام فرمانے کے لیے بستر پر تشریف لاتے تو اپنی دائیں ہتھیلی کا تکیہ بناتے، پھر دھیمی آواز میں کچھ پڑھتے جس کے متعلق ہمیں علم نہیں ہوتا تھا کہ آپ ﷺ کیا کہہ رہے ہیں، پھر جب اس کے آخری حصے میں پہنچتے تو اپنی آواز بلند فرماتے اور یہ دعا مانگتے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، إِلَهَ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» ”اے اللہ! اے ساتوں آسمانوں کے رب اور عرشِ عظیم کے مالک، ہر چیز کے الٰہ اور پروردگار، تورات، انجیل اور فرقان (قرآن) کو نازل فرمانے والے، دانے اور گٹھلی کو (اگانے کے لیے) پھاڑنے والے، میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے۔ اے اللہ! تو ہی اول ہے پس تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، اور تو ہی آخر ہے پس تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو ہی ظاہر ہے پس تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، اور تو ہی باطن ہے پس تجھ سے بڑھ کر کوئی قریب نہیں، ہمارا قرض ادا کر دے اور ہمیں فقر و محتاجی سے نکال کر غنی فرما دے۔““
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں سری بن اسماعیل ضعیف راوی ہے، تاہم دعا کے یہ الفاظ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔