❮
❯
حدیث نمبر: 3362
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، ثَنَا يُونُسُ هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِفِرَاشِهِ فَيُفْرَشُ لَهُ فَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ ، فَإِذَا أَوَى إِلَيْهِ تَوَسَّدَ كَفَّهُ الْيُمْنَى ، ثُمَّ هَمَسَ لَا نَدْرِي مَا يَقُولُ ، فَإِذَا كَانَ فِي آخِرِ ذَلِكَ رَفَعَ صَوْتَهُ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، إِلَهَ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ " .
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ اپنے بستر کے بارے میں حکم فرماتے تو وہ آپ ﷺ کے لیے بچھا دیا جاتا، پھر آپ ﷺ قبلہ رخ ہو جاتے، پس جب آپ ﷺ آرام فرمانے کے لیے بستر پر تشریف لاتے تو اپنی دائیں ہتھیلی کا تکیہ بناتے، پھر دھیمی آواز میں کچھ پڑھتے جس کے متعلق ہمیں علم نہیں ہوتا تھا کہ آپ ﷺ کیا کہہ رہے ہیں، پھر جب اس کے آخری حصے میں پہنچتے تو اپنی آواز بلند فرماتے اور یہ دعا مانگتے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، إِلَهَ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» ”اے اللہ! اے ساتوں آسمانوں کے رب اور عرشِ عظیم کے مالک، ہر چیز کے الٰہ اور پروردگار، تورات، انجیل اور فرقان (قرآن) کو نازل فرمانے والے، دانے اور گٹھلی کو (اگانے کے لیے) پھاڑنے والے، میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے۔ اے اللہ! تو ہی اول ہے پس تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، اور تو ہی آخر ہے پس تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو ہی ظاہر ہے پس تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، اور تو ہی باطن ہے پس تجھ سے بڑھ کر کوئی قریب نہیں، ہمارا قرض ادا کر دے اور ہمیں فقر و محتاجی سے نکال کر غنی فرما دے۔““
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں سری بن اسماعیل ضعیف راوی ہے، تاہم دعا کے یہ الفاظ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3362
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإِسناد ضعيف جدًا، آفته السَّري بن إسماعيل، وهو متروك الحديث. »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 3400، 3481، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 5051، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 3831، وأخرجه مسند أحمد برقم: 8737، 8994، 10541، وأخرجه فتح الباري برقم: 3020، 5959، 5960، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 2046، 4795، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 5537، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 7958، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6100»