المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ جوامع الدُّعَاءِ باب: جامع اور ہمہ گیر کلمات پر مشتمل دعاؤں کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الْأَعْمَى ، عَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ مَنْ أَرَادَ اللهُ تَعَالَى بِهِ خَيْرًا عَلَّمَهُ إِيَّاهُنَّ ، ثُمَّ لَمْ يَنْسَهُنَّ أَبَدًا ، اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي ، وَخُذْ إِلَى الْخَيْرِ بِنَاصِيَتِي ، وَاجْعَلِ الْإِسْلَامَ مُنْتَهَى رِضَايَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّنِي ، وَذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي ، وَفَقِيرٌ فَارْزُقْنِي " .
3348 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، بِهَذَا .سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے یہ کلمات سکھا دیتا ہے، پھر وہ انہیں کبھی نہیں بھولتا؟ (وہ دعا یہ ہے:) «اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي ، وَخُذْ إِلَى الْخَيْرِ بِنَاصِيَتِي ، وَاجْعَلِ الْإِسْلَامَ مُنْتَهَى رِضَايَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّنِي ، وَذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي ، وَفَقِيرٌ فَارْزُقْنِي» ”اے اللہ! بے شک میں (فطری طور پر) ناتواں ہوں، پس اپنی رضا و خوشنودی کے کاموں میں میری اس کمزوری کو قوت عطا فرما، میری پیشانی پکڑ کر مجھے خیر و بھلائی کی طرف لے جا، اور اسلام کو میری رغبت و پسندیدگی کی آخری حد بنا دے؛ اے اللہ! میں کمزور ہوں پس مجھے طاقت بخش، میں ذلیل و پست ہوں پس مجھے عزت سے سرفراز فرما، اور میں فقیر و محتاج ہوں پس مجھے رزق عطا فرما۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند کے ساتھ علاء سے یہی روایت بیان کی ہے۔