المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ جوامع الدُّعَاءِ باب: جامع اور ہمہ گیر کلمات پر مشتمل دعاؤں کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، ثَنَا الْأَفْرِيقِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ وَالْعِفَّةَ ، وَالْأَمَانَةَ ، وَحُسْنَ الْخُلُقِ ، وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ " .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کثرت کے ساتھ یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ وَالْعِفَّةَ، وَالْأَمَانَةَ، وَحُسْنَ الْخُلُقِ، وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے تندرستی و عافیت، عفت و پاکدامنی، امانت داری، عمدہ اخلاق اور تیری لکھی ہوئی تقدیر پر خوش دلی کے ساتھ راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں۔“
اس حدیث کو امام بخاری نے الادب المفرد (307) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد الافریقی نامی راوی کے حافظے کے سبب محدثین نے کلام کیا ہے جس کی بنا پر یہ سند ضعیف ہے، تاہم اس دعا کے کلمات دیگر صحیح روایات و شواہد سے ثابت ہیں۔