المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ جوامع الدُّعَاءِ باب: جامع اور ہمہ گیر کلمات پر مشتمل دعاؤں کا بیان۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، ثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنِي عِصْمَةُ أَبُو حُكَيْمَةَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ مِمَّا عَلَّمَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ؟ " قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ وَعَمْدِي وَهَزْلِي وَجِدِّي ، وَلَا تَحْرِمْنِي بَرَكَةَ مَا أَعْطَيْتَنِي ، وَلَا تَفْتِنِّي بِمَا حَرَمْتَنِي " .سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھاؤں جو مجھے جبرائیل علیہ السلام نے سکھائے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! (ضرور سکھائیے)، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ دعا مانگا کرو: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ وَعَمْدِي وَهَزْلِي وَجِدِّي ، وَلَا تَحْرِمْنِي بَرَكَةَ مَا أَعْطَيْتَنِي ، وَلَا تَفْتِنِّي بِمَا حَرَمْتَنِي» ”اے اللہ! میری خطائیں معاف فرما دے، اور وہ گناہ بھی جو میں نے قصداً کیے، اور جو ہنسی مذاق میں یا سنجیدگی کی حالت میں (مجھ سے سرزد) ہوئے؛ اور جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس کی برکت سے مجھے محروم نہ فرما، اور جس نعمت سے تو نے مجھے محروم رکھا ہے اس کے سبب مجھے کسی فتنے و آزمائش میں مبتلا نہ کر۔“
یہ روایت المستدرک للحاکم کی ہے اور امام حاکم نے اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے۔