المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ باب: دعا کی فضیلت اور اس کی اہمیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3343
وَقَالَ الْحَارِثُ : ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ قَالَ : كَانَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : " رُبَّمَا أَخَّرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْعَبْدِ الدَّعْوَةَ وَيُؤْتِهَا لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لَا يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ أَصَابَهُ عَرَضٌ مِنَ الدُّنْيَا " .ترجمہ
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ”بسا اوقات اللہ عزوجل بندے کی دعا کی قبولیت کو مؤخر فرما دیتا ہے اور اس کا صلہ اسے قیامت کے دن عطا فرماتا ہے، کیونکہ وہ یہ پسند نہیں فرماتا کہ اس کے بدلے بندے کو دنیا کا کوئی محض عارضی اور ناپائیدار فائدہ پہنچے۔“
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ربیع بن صبیح صدوق راوی ہیں مگر ان کے حافظے میں کچھ کلام کیا گیا ہے، تاہم دعا کی قبولیت اور اس کے آخرت کے لیے ذخیرہ ہونے کا مفہوم دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔