المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ باب: دعا کی فضیلت اور اس کی اہمیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3342
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " إِنَّ أَبْخَلَ النَّاسِ مَنْ بَخِلَ بِالسَّلَامِ ، وَأَعْجَزَ النَّاسِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الدُّعَاءِ " .
3342 \ 2 - وَحَدَّثَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثَنَا حَسَّانُ ، ثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ : " فَإِذَا دَعَوْتُمْ فَلْيَدْعُ مِنْكُمُ الصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ وَالْأَعْمَى وَالْفَصِيحُ ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّكُمْ يُجَابُ " الْحَدِيثَ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ لوگوں میں سب سے بڑا بخیل وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں بخل سے کام لے، اور لوگوں میں سب سے زیادہ عاجز و بے بس وہ ہے جو دعا مانگنے سے عاجز رہ جائے۔“ ایک دوسری سند کے ساتھ مروی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو تو چاہیے کہ تم میں سے چھوٹا اور بڑا، نابینا اور فصیح و بلیغ (سبھی) دعا کریں، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس کی دعا شرفِ قبولیت پا لے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔