المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ باب: دعا کی فضیلت اور اس کی اہمیت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : ثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، ثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَبِيعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ : " إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ شَجَرَةٍ لَا يَسْقُطُ لَهَا أُنْمُلَةٌ أَتَدْرُونَ مَا هِيَ ؟ " قَالُوا : لَا . قَالَ : " هِيَ النَّخْلَةُ لَا تَسْقُطُ لَهَا أُنْمُلَةٌ ، وَلَا تَسْقُطُ لِلْمُؤْمِنِ دَعْوَةٌ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم ایک روز نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک مومن کی مثال اس درخت کی مانند ہے جس کا ایک پتہ (یا پور برابر حصہ) بھی نہیں گرتا، کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون سا درخت ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”نہیں۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے جس کا کوئی پتہ نہیں جھڑتا، اور اسی طرح مومن کی کوئی بھی دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیة الباحث: 3341) میں روایت کیا ہے اور کھجور کے درخت سے متعلق مومن کی مثال کی اصل صحیح بخاری و صحیح مسلم میں موجود ہے۔