❮
❯
حدیث نمبر: 3341
وَقَالَ الْحَارِثُ : ثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، ثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَبِيعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ : " إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ شَجَرَةٍ لَا يَسْقُطُ لَهَا أُنْمُلَةٌ أَتَدْرُونَ مَا هِيَ ؟ " قَالُوا : لَا . قَالَ : " هِيَ النَّخْلَةُ لَا تَسْقُطُ لَهَا أُنْمُلَةٌ ، وَلَا تَسْقُطُ لِلْمُؤْمِنِ دَعْوَةٌ " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم ایک روز نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک مومن کی مثال اس درخت کی مانند ہے جس کا ایک پتہ (یا پور برابر حصہ) بھی نہیں گرتا، کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون سا درخت ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”نہیں۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے جس کا کوئی پتہ نہیں جھڑتا، اور اسی طرح مومن کی کوئی بھی دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیة الباحث: 3341) میں روایت کیا ہے اور کھجور کے درخت سے متعلق مومن کی مثال کی اصل صحیح بخاری و صحیح مسلم میں موجود ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3341
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الحديث بهذا الإسناد ضعيف؛ فيه الحكم وشيخه محمَّد بن رَبيع، لم أجد من ترجم لهما. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 5771، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 2811، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 2867، وأخرجه مسند أحمد برقم: 6432، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 282، وأخرجه فتح الباري برقم: 61، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6169»