المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : " لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ يُصَلِّي عَلَى مُحَمَّدٍ أَوْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِلَّا بَلَغَهُ : يُصَلِّي عَلَيْكَ فُلَانٌ وَيُسَلِّمُ عَلَيْكَ فُلَانٌ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”امتِ محمدیہ ﷺ کا جو بھی فرد نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس پر درود بھیجتا ہے یا آپ ﷺ کی جناب میں سلام کا نذرانہ پیش کرتا ہے، تو وہ درود و سلام لازماً آپ ﷺ تک پہنچا دیا جاتا ہے اور (فرشتے کے ذریعے) یوں عرض کیا جاتا ہے: «يُصَلِّي عَلَيْكَ فُلَانٌ وَيُسَلِّمُ عَلَيْكَ فُلَانٌ» ”فلاں شخص آپ پر درود بھیج رہا ہے اور فلاں شخص آپ کی خدمت میں سلام عرض کر رہا ہے۔“
اس اثر کی سند میں موجود ابویحییٰ القتات الکوفی ضعیف راوی ہے، تاہم فرشتوں کے ذریعے آپ ﷺ تک درود و سلام پہنچائے جانے کا مضمون دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔