المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کا بیان۔
وَحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، ثَنَا أَبُو بَلْجٍ الْفَزَارِيُّ ، ثَنَا ثُوَيْرٌ ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ ، وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ ، وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ إِمَامِ الْخَيْرِ وَقَائِدِ الْخَيْرِ ، اللَّهُمَّ ابْعَثْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطُهُ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ ، وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام ثویر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ نبی کریم ﷺ پر درود کس طرح بھیجا جائے؟ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یوں کہو: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ ، وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ ، وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ إِمَامِ الْخَيْرِ وَقَائِدِ الْخَيْرِ ، اللَّهُمَّ ابْعَثْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطُهُ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ ، وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! تو اپنی خصوصی نوازشات، برکات اور اپنی رحمتیں رسولوں کے سردار، پرہیزگاروں کے پیشوا اور نبیوں کے خاتم، حضرت محمد ﷺ پر نازل فرما، جو تیرے برگزیدہ بندے، تیرے رسول، بھلائی کے امام اور خیر کے قائد و رہنما ہیں۔ اے اللہ! قیامت کے دن انہیں اس ﴿مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [سورة الإسراء: 79] پر فائز فرما جس پر اولین و آخرین (سبھی) رشک کریں، اور محمد ﷺ اور ان کی آل پر اپنی رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمتیں نازل فرمائیں، بے شک تو ہی تعریف کے لائق اور صاحبِ عظمت و بزرگی ہے“۔
اس روایت کو ائمہ محدثین نے اپنی کتب میں درج کیا ہے، جس میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس کے لائق درود و سلام کے انتہائی بلیغ اور جامع الفاظ کی تعلیم دی ہے۔