❮
❯
حدیث نمبر: 3328
وَبِهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : ارْتَقَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ دَرَجَةً فَقَالَ : " آمِينَ " ثُمَّ ارْتَقَى دَرَجَةً فَقَالَ : " آمِينَ " ، ثُمَّ ارْتَقَى الثَّالِثَةَ فَقَالَ : " آمِينَ " ، ثُمَّ اسْتَوَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ فَقَالَ أَصْحَابُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ : أَيْ نَبِيَّ اللهِ عَلَى مَا أَمَّنْتَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَقَالَ : رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ : آمِينَ ، وَرَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، قَالَ : قُلْتُ : آمِينَ ، وَرَغِمَ أَنْفُ مَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ، قَالَ : قُلْتُ : آمِينَ " .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ منبر کی ایک سیڑھی پر تشریف لے گئے تو فرمایا: ”آمین“، پھر دوسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا: ”آمین“، پھر آپ تیسری سیڑھی پر جلوہ افروز ہوئے تو فرمایا: ”آمین“، پھر جب نبی کریم ﷺ منبر پر برابر ہو کر تشریف فرما ہوئے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! آپ نے کس بات پر آمین کہی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے (بد دعا دیتے ہوئے) کہا: «رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ» ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو (وہ ذلیل و خوار ہو) جس نے اپنے والدین کو یا ان میں سے کسی ایک کو (بڑھاپے میں) پایا اور وہ (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہو سکا“، آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے کہا: «آمِينَ» ”اے اللہ! قبول فرما“۔ پھر انہوں نے کہا: «رَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ» ”اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور (اس کی برکتوں سے فائدہ نہ اٹھا سکا یہاں تک کہ) اس کی بخشش نہ ہو سکی“، آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے کہا: «آمِينَ» ”اے اللہ! قبول فرما“۔ پھر انہوں نے کہا: «رَغِمَ أَنْفُ مَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ» ”اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے آپ کا تذکرہ کیا گیا لیکن اس نے آپ پر درود نہ پڑھا“، آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے کہا: «آمِينَ» ”اے اللہ! قبول فرما“۔“
[تخريج: الأدب المفرد للبخاري: 646، صحيح ابن حبان: 907، حدیث صحیح لغیرہ]

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3328
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الإسناد ضعيف؛ لحال سلمة بن وَرْدان. »
«أخرجه مسند البزار برقم: 6252»