❮
❯
حدیث نمبر: 3329
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " آمِينَ ، آمِينَ ، آمِينَ " . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ حِينَ صَعِدْتَ الْمِنْبَرَ قُلْتَ : آمِينَ ، آمِينَ ، آمِينَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَتَانِي فَقَالَ : مَنْ أَدْرَكَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللهُ تَعَالَى قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ . وَمَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يَبَرَّهُمَا فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللهُ قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ . وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ ، فَأَبْعَدَهُ اللهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ " .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ ”آمین، آمین، آمین“ کہا؛ عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول ﷺ! جب آپ منبر پر تشریف لے گئے تو آپ نے تین بار ”آمین“ کہا، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جبریل علیہ الصلوۃ والسلام میرے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: وہ شخص اللہ کی رحمت سے محروم ہو جائے جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ ہو سکی، پھر وہ (اسی حالت میں مر کر) آگ میں داخل ہوا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور رکھے، آپ کہیے: آمین، تو میں نے کہا: «آمِينَ» ”آمین (اے اللہ! ایسا ہی ہو)“؛ اور وہ شخص جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک نہ کیا، پھر وہ مر کر آگ میں داخل ہوا تو اللہ اسے اپنی رحمت سے دور رکھے، آپ کہیے: آمین، تو میں نے کہا: «آمِينَ» ”آمین“؛ اور جس شخص کے سامنے آپ کا تذکرہ کیا گیا اور اس نے آپ پر درود نہ بھیجا، پھر وہ مر کر جہنم کی آگ میں جا گرا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ سے دور رکھے، آپ کہیے: آمین، تو میں نے کہا: «آمِينَ» ”آمین“۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے، امام ابویعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے شواہد صحیحین سمیت دیگر کتبِ احادیث میں موجود ہیں جو اسے درجۂ صحت تک پہنچاتے ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3329
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الإسناد حسن، والله أعلم، لوجود محمَّد بن عَمرو. »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 2022، 2034، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 13408، 13409، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6286»