المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، ثَنَا سَلَمَةُ هُوَ ابْنُ وَرْدَانَ قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَتَبَرَّزُ فَلَمْ يَجِدْ رَجُلًا يَتْبَعُهُ ، فَفَزِعَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاتَّبَعَهُ بِفَخَّارَةٍ ، وَمَطْهَرَةٍ ، فَوَجَدَهُ سَاجِدًا فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ ، فَتَنَحَّى فَجَلَسَ وَرَاءَهُ حَتَّى رَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَقَالَ : " أَحْسَنْتَ يَا عُمَرُ ، حَيْثُ وَجَدْتَنِي سَاجِدًا فَتَنَحَّيْتَ عَنِّي ، إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَتَانِي فَقَالَ : مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ وَاحِدَةً صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَرَفَعَهُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے اور آپ ﷺ کے پیچھے (خدمت کے لیے) کوئی شخص نہ تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فکر مند ہوئے اور مٹی کے ایک برتن اور وضو کے لوٹے میں پانی لے کر آپ ﷺ کے پیچھے چل دیے، انہوں نے آپ ﷺ کو اپنے ایک باغیچے میں سجدہ ریز پایا، تو وہ ایک طرف ہٹ کر آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھ گئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا سرِ مبارک اٹھایا اور فرمایا: ”اے عمر! تم نے بہت عمدہ کیا کہ جب تم نے مجھے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو تم مجھ سے ایک طرف ہو گئے، بے شک میرے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور انہوں نے بتایا کہ: جو شخص آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے دس درجات بلند فرمائے گا۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابوبکر نے کی ہے۔