❮
❯
حدیث نمبر: 3326
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ ضَمْضَمٍ الْعَامِرِيِّ ، ثَنَا عِمْرَانُ الْحِمْيَرِيُّ قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْطَانِي مَلَكًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ يَقُومُ عَلَى قَبْرِي إِذَا أَنَا مُتُّ ، فَلَا يُصَلِّي عَبْدٌ عَلَيَّ صَلَاةً إِلَّا قَالَ : يَا مُحَمَّدُ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ يُصَلِّي عَلَيْكَ ، يُسَمِّيهِ بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ ، فَيُصَلِّي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ مَكَانَهَا عَشْرًا " .
ترجمہ

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے فرشتوں میں سے ایک ایسا فرشتہ عطا فرمایا ہے جو میری وفات کے بعد میری قبر پر (مقرر ہو کر) کھڑا رہے گا، چنانچہ جو بندہ بھی مجھ پر درود پڑھے گا تو وہ فرشتہ (میری بارگاہ میں) عرض کرے گا: «يَا مُحَمَّدُ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ يُصَلِّي عَلَيْكَ» ”اے محمد! فلاں کے بیٹے فلاں نے آپ پر درود بھیجا ہے“، وہ فرشتہ باقاعدہ اس شخص کا نام اور اس کے والد کا نام لے کر پکارے گا، تو اللہ عزوجل اس ایک مرتبہ درود پڑھنے کے بدلے میں اس شخص پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبد العزیز بن ابان اموی ہے جو کہ محدثین کے نزدیک متروک اور ضعیف راوی ہے، البتہ درود پاک کے فضائل اور فرشتوں کے ذریعے درود پہنچانے کا اصل مضمون دیگر صحیح احادیث و شواہد سے ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3326
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإِسناد ضعيف جدًا، لوجود عبد العزيز بن أبان، وفيه نُعيم بن ضَمْضَم وهو ضعيف، وفيه عمران الحِمْيري وهو لا يعرف. »
«أخرجه مسند البزار برقم: 1425»