❮
❯
حدیث نمبر: 3325
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُنِيبٍ ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ رَجُلٍ ، مِنْ طَيِّئٍ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا قَالَ : " كُنْتُ أَسْأَلُ اللهَ تَعَالَى أَنْ يُرِيَنِي الِاسْمَ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، فَرَأَيْتُهُ مَكْتُوبًا فِي الْكَوَاكِبِ فِي السَّمَاءِ : يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " .
ترجمہ

قبیلہ طے کے ایک معتبر شخص سے روایت ہے (جن کی راوی نے بہت تعریف و توصیف بیان کی ہے) کہ انہوں نے کہا: ”میں اللہ تعالیٰ سے مسلسل یہ التجا کیا کرتا تھا کہ وہ مجھے اپنا وہ اسمِ گرامی دکھا دے کہ جس کے وسیلے سے جب بھی دعا مانگی جائے تو وہ اسے شرفِ قبولیت بخشے، چنانچہ میں نے اسے آسمان کے ستاروں کے جھرمٹ میں مرقوم پایا: «يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے آسمانوں اور زمین کو (بغیر کسی سابقہ نمونے کے) پیدا کرنے والے! اے جلالت و بزرگی اور انعام و اکرام والے!“۔“
امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں قبیلہ طے کا ایک شخص مبہم ہے، تاہم امام سری بن یحییٰ نے ان کی ثقاہت کی گواہی دی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3325
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد ضعيف، لِإبهام الرجل الذي يَروي عنه السَّرِي بن يحيى. »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 7206»