المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ جَابِرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَجْعَلُونِي كَقَدَحِ الرَّاكِبِ ، إِنَّ الرَّاكِبَ إِذَا عَلَّقَ مَعَالِيقَهُ أَخَذَ قَدَحَهُ فَمَلَأَهُ مِنَ الْمَاءِ ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ فِي الْوُضُوءِ تَوَضَّأَ ، وَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ فِي الشُّرْبِ شَرِبَ ، وَإِلَّا أَهَرَاقَ مَا فِيهِ ، اجْعَلُونِي فِي أَوَّلِ الدُّعَاءِ وَفِي وَسَطِ الدُّعَاءِ وَفِي آخِرِ الدُّعَاءِ " .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تم مجھے مسافر کے اس پیالے کی مانند نہ بناؤ (جسے وہ محض اپنی ضرورت کے لیے ثانوی طور پر ساتھ رکھتا ہے)، کیونکہ مسافر جب اپنی سواری پر اپنا سامان لٹکاتا ہے تو اپنا پیالہ لے کر اسے پانی سے بھر لیتا ہے، پھر اگر اسے وضو کی حاجت ہو تو وضو کر لیتا ہے اور اگر اسے پینے کی ضرورت ہو تو پی لیتا ہے، ورنہ جو کچھ اس میں ہوتا ہے اسے بہا دیتا ہے؛ (تم ایسا ہرگز نہ کرو بلکہ) مجھے اپنی دعا کے آغاز میں، دعا کے درمیان میں اور دعا کے آخر میں (ذکر و درود کے ساتھ) یاد رکھا کرو۔“
اس حدیث کو امام بیہقی نے 'شعب الایمان' میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی کے ضعف کی وجہ سے محدثین کے نزدیک اس کی استنادی حیثیت کمزور ہے۔