المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3321
قَالَ إِسْحَاقُ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَنَا أَبُو قُرَّةَ هُوَ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " ذُكِرَ لِي أَنَّ الدُّعَاءَ يَكُونُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يَصْعَدُ مِنْهُ شَيْءٌ حَتَّى يُصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ بے شک دعا آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتی ہے، اس کا کوئی بھی حصہ اوپر کی جانب (بارگاہِ الٰہی میں) بلند نہیں ہوتا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ پر درود نہ پڑھ لیا جائے۔“
اس حدیث کو امام ترمذی نے اپنی سنن (رقم: 486) میں روایت کیا ہے اور شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے، یہ روایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا موقوف قول ہے۔