المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3322
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، أَنَا مَعْبَدٌ ، أَخْبَرَنِي فُلَانٌ ، فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : إِنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ أَصَلَّيْتَ الضُّحَى ؟ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ : " إِنَّ أَضَلَّ النَّاسِ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ " صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
3322 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ ابْنِ هِلَالٍ الْعَنَزِيِّ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، فَذَكَرَهُ .ترجمہ
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے یا رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف فرما ہوئے، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے ابوذر! کیا تم نے چاشت کی نماز ادا کر لی ہے؟“ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی جس میں یہ (ارشاد) بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً لوگوں میں سب سے زیادہ گمراہ وہ شخص ہے جس کے پاس میرا تذکرہ کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔“ ﷺ
امام حارث نے بھی اپنی سند میں عبید اللہ بن محمد بن عائشہ، حماد، ابن ہلال العَنَزی اور ایک (دوسرے) شخص کے واسطے سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔