المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ القصاص فِي القيامة باب: قیامت کے دن قصاص اور برابر کے بدلے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللهِ ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ وَصِيفَةً لَهُ فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا مَخَافَةُ الْقِصَاصِ لَأَوْجَعْتُكِ بِهَذَا السِّوَاكِ " .
3320 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي ، ثَنَا وَكِيعٌ بِهِ .
3320 \ 3 - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، ثَنَا أَبِي ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُدْعَانَ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَكَانَ بِيَدِهِ سِوَاكٌ فَدَعَا بِوَصِيفٍ لَهُ أَوْ لَهَا حَتَّى اسْتَبَانَتْ فِي وَجْهِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَضَبَ ، فَخَرَجَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى الْجِيرَانِ ، فَوَجَدَتِ الْوَصِيفَةَ وَهِيَ تَلْعَبُ بَيْنَهُمْ فَقَالَتْ : أَلَا أَرَاكِ تَلْعَبِينَ بِهَذِهِ الْبَهْمَةِ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوكِ ؟ قَالَتْ : لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا سَمِعْتُكَ . فَذَكَرَهُ .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی ایک خادمہ کو کسی کام کے لیے بھیجا تو اس نے واپس آنے میں دیر کر دی، جس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر (روزِ قیامت) قصاص کا ڈر نہ ہوتا تو میں تمہیں اس مسواک سے ضرور مارتا (تکلیف پہنچاتا)۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند سے وکیع کے واسطے سے یہی روایت بیان کی ہے۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں تشریف فرما تھے اور آپ ﷺ کے دستِ مبارک میں ایک مسواک تھی، آپ ﷺ نے اپنی یا (سیدہ کے) ایک خادمہ کو طلب فرمایا (مگر اس نے آنے میں تاخیر کی) یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرہِ انور پر غصے کے آثار نمایاں ہونے لگے، پس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا پڑوسیوں کی طرف نکلیں تو دیکھا کہ وہ خادمہ وہاں (بچوں میں) کھیل کود میں مصروف ہے، سیدہ نے اس سے کہا: ”کیا میں تمہیں اس جانور کے بچے کے ساتھ کھیلتا ہوا نہیں دیکھ رہی، حالانکہ اللہ کے رسول ﷺ تمہیں پکار رہے ہیں؟“ اس نے جواب دیا: ”نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میں نے آپ ﷺ کی پکار نہیں سنی۔“ پھر راوی نے مذکورہ بالا واقعہ (مسواک سے مارنے والی بات) ذکر کیا۔