المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ القصاص فِي القيامة باب: قیامت کے دن قصاص اور برابر کے بدلے کا بیان۔
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، ثَنَا ابْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا رَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهَاجِرَةُ الْبَحْرِ قَالَ : " أَلَا تُخْبِرُونَنَا بِأَعَاجِيبِ مَا رَأَيْتُمْ فِي أَرْضِ الْحَبَشَةِ ؟ " . قَالَ فِتْيَةٌ مِنْهُمْ : بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ ، بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ إِذْ مَرَّتْ عَجُوزٌ مِنْ عَجَائِزِ رُهْبَانِهِمْ عَلَى رَأْسِهَا قُلَّةٌ مِنْ مَاءٍ ، فَمَرَّتْ بِفَتًى مِنْهُمْ فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفَيْهَا فَخَرَّتْ عَلَى رُكْبَتَيْهَا ، فَانْكَسَرَتْ قُلَّتُهَا فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ : سَوْفَ تَعْلَمُ يَا غُدَرُ إِذَا وَضَعَ اللهُ تَعَالَى الْكُرْسِيَّ وَجَمَعَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فَتَكَلَّمَتِ الْأَيْدِي وَالْأَرْجُلُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ، سَوْفَ تَعْلَمُ كَيْفَ أَمْرِي وَأَمْرُكَ عِنْدَهُ غَدًا ، قَالَ : يَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَتْ صَدَقَتْ ، كَيْفَ يُقَدِّسُ اللهُ قَوْمًا لَا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهِمْ مِنْ شَدِيدِهِمْ " .
3319 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ بِهِ .
3319 \ 3 - تَابَعَهُ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، أَخْرَجَهُ حَرْمَلَةُ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سرزمینِ حبشہ سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں واپس پہنچے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم ہمیں سرزمینِ حبشہ کے وہ عجیب و غریب واقعات نہیں سناؤ گے جو تم نے وہاں دیکھے؟“ ان میں سے چند نوجوانوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں کے راہبوں کی ایک بوڑھی عورت ہمارے پاس سے گزری جس نے اپنے سر پر پانی کا ایک مٹکا اٹھا رکھا تھا، وہ وہاں کے ایک نوجوان کے پاس سے گزری تو اس نوجوان نے اپنا ایک ہاتھ عورت کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ کر اسے دھکا دیا جس سے وہ اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑی اور اس کا مٹکا ٹوٹ گیا، جب وہ کھڑی ہوئی تو اس نے نوجوان کی طرف مڑ کر دیکھا اور کہا: «سَوْفَ تَعْلَمُ يَا غُدَرُ» ”اے غدار! تجھے عنقریب معلوم ہو جائے گا“ جب اللہ تعالیٰ اپنی کرسیِ عدالت بچھائے گا اور اولین و آخرین کو اکٹھا فرمائے گا، پھر ﴿تُكَلِّمُنَا أَيْدِيَهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [سورة يس: 65] ”ہاتھ کلام کریں گے اور پاؤں ان کے ان اعمال کی گواہی دیں گے جو وہ کمایا کرتے تھے“، تو تجھے کل اللہ کے حضور میرے اور اپنے معاملے کا پتہ چل جائے گا، راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت نے سچ کہا، اس نے سچ کہا؛ اللہ اس قوم کو کیسے پاک و مقدس قرار دے سکتا ہے جہاں ان کے کمزور کا حق ان کے طاقتور سے نہیں دلوایا جاتا۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اسحاق بن ابی اسرائیل کے واسطے سے یحییٰ بن سلیم سے ایسی ہی روایت بیان کی ہے، نیز مسلم بن خالد نے بھی ابن خثیم سے اس کی متابعت کی ہے جسے حرملہ نے ابن وہب کے واسطے سے نقل کیا ہے۔