❮
❯
حدیث نمبر: 3314
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، نَبَا مَكِّيٌّ هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ ( ح ) .
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَأَبُو خَيْثَمَةَ قَالَا : ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ كَتَبَهَا اللهُ تَعَالَى لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ حَتَّى يَعْمَلَهَا ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ سَيِّئَةً ، وَإِنْ تَرَكَهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : إِنَّمَا تَرَكَهَا مِنْ مَخَافَتِي " .
لَفْظُ مُجَاهِدٍ .
3314 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَعْلَى ، ثَنَا عَبْدُ الْحَكَمِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، فَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ وَاحِدَةٌ ، وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةٌ وَاحِدَةٌ ، فَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْهِ شَيْءٌ " .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کسی نیکی کا پختہ ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، پھر اگر وہ اس پر عمل پیرا ہو جائے تو اس کے لیے دس نیکیاں درج کر دی جاتی ہیں۔ اور جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا تو وہ اس کے نامہ اعمال میں اس وقت تک نہیں لکھی جاتی جب تک کہ وہ اسے کر نہ لے، پس اگر وہ اس کا ارتکاب کر لے تو اس کے حق میں ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اسے ارادہ کرنے کے باوجود ترک کر دے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے؛ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: «إِنَّمَا تَرَكَهَا مِنْ مَخَافَتِي» ”اس بندے نے اس برائی کو محض میرے ڈر اور خوف کی وجہ سے چھوڑا ہے“۔“
یہ الفاظ مجاہد بن موسیٰ کی روایت کے ہیں۔
امام حارث نے یعلیٰ کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور اس پر عمل بھی کر لیا تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، اور اگر اس نے عمل نہ کیا تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اور جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا پھر اس کا ارتکاب کر لیا تو اس پر ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے، لیکن اگر اس نے عمل نہ کیا تو اس کے خلاف کچھ بھی نہیں لکھا جاتا۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 3314
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :3314/1: هذا الحديث مداره على موسى بن عُبيدة، وهو ضعيف، وفيه أبو بكر بن عبد الله، وهو مجهول الحال.، 3314/2: الحديث بهذا الإسناد ضعيف، لوجود يعلي بن عبَّاد، وشيخه عبد الحكم. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 17187، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7160/1»