المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الورع والتقوى باب: ورع (شبہات سے بچنے) اور تقویٰ کی فضیلت و برتری کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ ، قَالَ : إِنَّهُ سَمِعَ الْحَكَمَ بْنَ مِينَاءَ يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " اجْمَعْ لِي مَنْ هَاهُنَا مِنْ قُرَيْشٍ " فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَتَخْرُجُ إِلَيْهِمْ أَمْ يَدْخُلُونَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ أَخْرُجُ إِلَيْهِمْ " . فَخَرَجَ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، هَلْ فِيكُمْ غَيْرُكُمْ ؟ " قَالُوا : لَا إِلَّا بَنُو أَخَوَاتِنَا . فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، اعْلَمُوا أَنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِالنَّبِيِّ الْمُتَّقُونَ ، فَانْظُرُوا لَا يَأْتِي النَّاسُ بِالْأَعْمَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَتَأْتُونَ بِالدُّنْيَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْمِلُونَهَا فَأَصُدُّ عَنْكُمْ بِوَجْهِي " . ثُمَّ قَرَأَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ الْآيَةَ .حکم بن میناء سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میرے پاس یہاں موجود قریش کو جمع کرو۔“ پس انہوں نے انہیں اکٹھا کر لیا، پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ باہر ان کے پاس تشریف لے جائیں گے یا وہ آپ کے پاس اندر حاضر ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ میں خود باہر نکل کر ان کے پاس جاؤں گا۔“ پس آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ”اے گروہِ قریش! کیا تمہارے اس مجمع میں تمہارے علاوہ بھی کوئی (اجنبی) موجود ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، سوائے ہماری بہنوں کے بیٹوں (بھانجوں) کے۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی قوم کی بہن کا بیٹا انہی میں سے شمار ہوتا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے گروہِ قریش! اچھی طرح جان لو کہ لوگوں میں سے نبی کے سب سے زیادہ قریب اور حق دار وہ ہیں جو تقویٰ اختیار کرنے والے ہیں، پس تم اس بات کا خاص خیال رکھنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن لوگ تو اپنے ساتھ نیک اعمال لے کر آئیں اور تم دنیا (کی محبت و مال) کا بوجھ اپنے اوپر لادے ہوئے آؤ اور پھر میں تم سے اپنا چہرہ پھیر لوں۔“ پھر آپ ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا ۗ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة آل عمران: 68]۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔