❮
❯
حدیث نمبر: 3315
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، وَلَخَرَجْتُمْ تَجْأَرُونَ لَا تَدْرُونَ تَنْجُونَ أَوْ لَا تَنْجُونَ " .
3315 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا : ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، بِهِ .
وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ .
وَابْنَةُ أَبِي الدَّرْدَاءِ مَا نَعْرِفُهَا .
ترجمہ

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم وہ کچھ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے بہت زیادہ، اور تم (گھروں سے اللہ کے حضور) گریہ و زاری اور آہ و بکا کرتے ہوئے نکل کھڑے ہوتے، تمہیں یہ اندازہ ہی نہ رہتا کہ تم (عذاب سے) نجات پاؤ گے یا نہیں۔“
امام بزار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں حسن بن یحییٰ اور عبدالملک بن محمد نے حدیث بیان کی، ان دونوں نے کہا کہ ہمیں مسلم بن ابراہیم نے اسی سابقہ سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی۔
امام بزار نے فرمایا کہ ہمارے علم کے مطابق امام شعبہ سے اسے صرف مسلم بن ابراہیم نے ہی روایت کیا ہے۔
نیز انہوں نے فرمایا کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی (جو اس روایت کی ایک سند میں ہیں) کو ہم نہیں جانتے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 3315
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :3315/1: هذا الحديث بهذا الإسناد ضعيف، فيه علتان:، 1 - جهالة سليمان بن مَرْثَد.، 2 - انقطاعه، حيث لم يثبت لسليمان بن مَرْثَد سماع من أبي الدرداء رضي الله عنه.
3315/2: ضعيف لوجود سليمان بن مَرْثَد، وفيه ابنة أبي الدرداء، لم أجد لها ترجمة،، وقد قال الحافظ هنا في المطالب: وابنة أبي الدرداء ما نعرفها. »
«أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 7975، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 17706، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7092»