المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الورع والتقوى باب: ورع (شبہات سے بچنے) اور تقویٰ کی فضیلت و برتری کا بیان۔
حدیث نمبر: 3312
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ ، وَأَبُو الدَّهْمَاءِ وَكَانَا يُكْثِرَانِ السَّفَرَ نَحْوَ الْبَيْتِ قَالَا : أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ الْبَدَوِيُّ : أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ تَعَالَى ، فَكَانَ مِمَّا حَفِظْتُ أَنْ قَالَ : " لَا تَدَعْ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَبْدَلَكَ اللهُ تَعَالَى خَيْرًا مِنْهُ " .ترجمہ
ابوقتادہ اور ابودہما رحمہما اللہ (جو کثرت سے بیت اللہ کی طرف سفر کیا کرتے تھے) سے روایت ہے کہ ہم ایک صحرائی شخص کے پاس آئے تو اس بدوی صحابی نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ان علوم کی تعلیم دینا شروع کی جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سکھائے تھے، پس جو ارشادات مجھے یاد رہ گئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ عزوجل کے تقویٰ اور ڈر کی خاطر جو بھی چیز چھوڑو گے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے بدلے اس سے بہتر چیز عطا فرما دے گا۔“
اسے امام احمد نے المسند (23074) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔