المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الورع والتقوى باب: ورع (شبہات سے بچنے) اور تقویٰ کی فضیلت و برتری کا بیان۔
حدیث نمبر: 3311
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ جَابَانَ ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْجَاهِلَ لَا يَكْشِفُ إِلَّا عَنْ سَوْءَةٍ ، وَإِنْ كَانَ حَصِيفًا ظَرِيفًا عِنْدَ النَّاسِ ، وَإِنَّ الْعَاقِلَ لَا يَكْشِفُ إِلَّا عَنْ فَضْلٍ وَإِنْ كَانَ عَيِيًّا مَهِينًا عِنْدَ النَّاسِ " .ترجمہ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک نادان شخص (اپنے طرزِ عمل سے) محض برائی اور عیب ہی کو ظاہر کرتا ہے، اگرچہ وہ لوگوں کے نزدیک کتنا ہی فہیم اور خوش گفتار کیوں نہ ہو، اور بیشک صاحبِ عقل انسان (اپنی ذات سے) صرف خیر اور فضیلت ہی کو عیاں کرتا ہے، اگرچہ وہ لوگوں کی نظر میں کتنا ہی بیان سے قاصر اور کم حیثیت کیوں نہ ہو۔“
اس روایت کو امام بیہقی نے 'شعب الایمان' میں روایت کیا ہے، مگر اس کی سند میں میسرہ بن عبد ربہ کذاب راوی کی موجودگی کے باعث محدثین نے اسے موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے۔