المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الورع والتقوى باب: ورع (شبہات سے بچنے) اور تقویٰ کی فضیلت و برتری کا بیان۔
حدیث نمبر: 3307
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا عَبَّادٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَدِمَ رَجُلٌ نَصْرَانِيٌّ مِنْ أَهْلِ جُرَشَ تَاجِرٌ فَكَانَ لَهُ بَيَانٌ وَوَقَارٌ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا أَعْقَلَ هَذَا النَّصْرَانِيَّ فَزَجَرَ الْقَائِلَ وَقَالَ : " مَهْ إِنَّ الْعَاقِلَ مَنْ عَمِلَ بِطَاعَةِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جُرَش کے لوگوں میں سے ایک نصرانی تاجر آیا جو فصاحت و بلاغت اور پُر وقار شخصیت کا حامل تھا، تو کسی نے (اسے دیکھ کر) عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ نصرانی کتنا عقل مند ہے؟“ پس آپ ﷺ نے کہنے والے کو سختی سے منع کیا اور فرمایا: «مَهْ» ”ایسا نہ کہو (خاموش ہو جاؤ)! بے شک حقیقی عقل مند وہی ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی فرمانبرداری کے کام کرے۔“
[تخريج: اس حدیث کو ابن ابی الدنیا نے 'کتاب العقل' (35) اور بیہقی نے 'شعب الایمان' (4312) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عباد بن منصور نامی راوی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔]