المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْأَمْرِ بالمعروف وَالنَّهْيُ عَنْ المنكر وإن كان ممن لَا يأتمر باب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی ترغیب، اگرچہ کہنے والا خود عمل نہ کرے، کا بیان۔
حدیث نمبر: 3300
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " إِنَّ اللهَ تَعَالَى لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ ، فَإِذَا ظَهَرَتِ الْمَعَاصِي فَلَمْ تُنْكَرْ أُخِذَتِ الْعَامَّةُ وَالْخَاصَّةُ " .ترجمہ
اسماعیل بن ابی حکیم سے روایت ہے کہ خلیفۂ راشد عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ چند مخصوص افراد کے (برے) اعمال کی پاداش میں پوری عوام کو عذاب میں مبتلا نہیں فرماتا، لیکن جب گناہ اور معصیت کے کام علی الاعلان ہونے لگیں اور ان پر نکیر نہ کی جائے (یعنی انہیں روکا نہ جائے) تو پھر عام اور خاص تمام لوگ اللہ کی پکڑ اور عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔“
اس اثر کو امام الحمیدی نے اپنی مسند (3317) میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔