❮
❯
حدیث نمبر: 3301
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثَنَا وُهَيْبٌ ، ثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ تَمْرًا ، فَاسْتَنْظَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى أَنْ يُنْظِرَهُ ، فَانْتَهَرَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أُحَرِّجُ بِهِ عَلَيْكَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أَطْلُبُكَ مِنْهُ بِشَيْءٍ ، فَإِنِّي وَاللهِ لَا أَرْجِعُ إِلَى أَرْضِي حَتَّى يُنْهَبَ مِنْهَا أَكْثَرُ مِمَّا أَطْلُبُ مِنْكَ . فَأَرْسَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهَا : خَوْلَةُ يَسْتَسْلِفُهَا تَمْرًا ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِتَمْرٍ فَقَالَتْ : إِنْ أَرَدْتَ مِنْ هَذَا فَعِنْدَنَا مِنْهُ مَا أَرَدْتُمْ قَالَ : " تُرِيدُ مِنْ هَذَا " ؟ قَالَ : نَعَمِ " اذْهَبْ فَاكْتَلْ وَاسْتَوْفِهِ " ثُمَّ قَالَ : " هُوَ كَانَ أَحْوَجَ إِلَى نُصْرَتِكُمْ مِنِّي ، وَأَنَا إِلَى أَنْ تَأْمُرُونِي بِأَدَاءِ أَمَانَتِي أَحْوَجُ " ، وَقَالَ : " إِنَّ اللهَ تَعَالَى لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا تَنْصُرُ ضَعِيفَهَا " ، أَوْ قَالَ : " لَا تُقَوِّي ضَعِيفَهَا " .
ترجمہ

ابو زرعہ بن عمرو بن جریر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے اپنے کھجوروں کے قرض کا تقاضا کرنے لگا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے کچھ مہلت طلب فرمائی مگر اس نے مہلت دینے سے صاف انکار کر دیا، اس پر نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے ڈانٹا اور جھڑکا تو اس نے کہا: ”میں آپ پر یہ بات گراں گزارتا ہوں کہ میں مدینہ سے اس حال میں نکلوں کہ میں آپ سے اپنے حق کا طالب ہوں، اللہ کی قسم! میں اپنی سرزمین کی طرف اس وقت تک واپس نہیں جاؤں گا جب تک کہ اس (حق) سے کہیں زیادہ نہ چھین لیا جائے جتنا میں آپ سے طلب کر رہا ہوں“، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے بنو سلیم کی ایک خاتون کی طرف پیغام بھیجا جنہیں خولہ کہا جاتا تھا تاکہ ان سے کھجوریں ادھار لے سکیں، انہوں نے آپ ﷺ کی طرف کھجوریں بھیجیں اور کہلا بھیجا کہ اگر آپ کو یہ پسند ہوں تو ہمارے پاس اس میں سے اتنا موجود ہے جتنا آپ چاہیں، آپ ﷺ نے اس شخص سے دریافت فرمایا: ”کیا تم یہ کھجوریں لینا چاہتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، اسے ناپ لو اور اپنا پورا حق وصول کر لو“، پھر آپ ﷺ نے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”یہ شخص (اپنا حق پانے میں) مجھ سے زیادہ تمہاری مدد و نصرت کا محتاج تھا، اور میں اس بات کا زیادہ حاجت مند تھا کہ تم مجھے میری امانت ادا کرنے کی تاکید کرتے“، اور مزید ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ اس امت کو ہرگز پاکیزہ و بلند مرتبہ نہیں کرتا جو اپنے کمزور کی مدد نہیں کرتی“، یا فرمایا: ”جو اپنے کمزور کو (اس کا حق دلا کر) طاقتور نہیں بناتی“۔
مسند الحارث: 3301، اس کی سند کے رجال ثقہ اور مستند ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 3301
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإسناد رجاله كلهم ثقات، لكنه منقطع »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»