المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ النصيحة مِنْ الدين باب: خیر خواہی کے دین کا حصہ ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : " أَرْبَعُ خِصَالٍ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ لِي ، وَوَاحِدَةٌ لَكَ ، وَوَاحِدَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ ، وَوَاحِدَةٌ فِيمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ عِبَادِي ; فَأَمَّا الَّتِي لِي : فَتَعْبُدُنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا ، وَأَمَّا الَّتِي لَكَ فَمَا عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ جَزَيْتُكَ بِهِ ، وَأَمَّا الَّتِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ ، فَمِنْكَ الدُّعَاءُ وَعَلَيَّ الْإِجَابَةُ ، وَأَمَّا الَّتِي بَيْنَكَ وَبَيْنَ عِبَادِي ، فَارْضَ لَهُمْ مَا تَرْضَى لِنَفْسِكَ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”چار خصلتیں ایسی ہیں جن میں سے ایک میرے لیے خاص ہے، ایک تمہارے لیے ہے، ایک میرے اور تمہارے درمیان مشترک ہے، جبکہ ایک تمہارے اور میرے دیگر بندوں کے درمیان ہے۔ پس وہ خصلت جو مخصوص طور پر میرے لیے ہے وہ یہ ہے کہ تم صرف میری ہی بندگی کرو اور میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہراؤ۔ وہ جو تمہارے لیے ہے وہ یہ ہے کہ تم جو بھی نیک عمل سرانجام دو گے، میں تمہیں اس کا بھرپور صلہ و جزا عطا کروں گا۔ وہ معاملہ جو میرے اور تمہارے درمیان ہے وہ یہ ہے کہ تمہاری جانب سے دعا و التجا ہو اور میرے ذمہ اسے شرفِ قبولیت بخشنا ہے۔ اور وہ خصلت جو تمہارے اور میرے بندوں کے درمیان ہے وہ یہ ہے کہ تم لوگوں کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔“
اس حدیث کی سند میں صالح بن بشیر المری ضعیف راوی ہے، جس کی بنا پر یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم اس کے آخری جز جیسے مفاہیم دیگر صحیح احادیث میں ثابت ہیں۔