المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ النصيحة مِنْ الدين باب: خیر خواہی کے دین کا حصہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3295
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدِّينُ النَّصِيحَةُ " قَالُوا : لِمَنْ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكِتَابِ اللهِ تَعَالَى ، وَلِنَبِيِّهِ ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ " .
3295 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دین تو سراسر خیرخواہی اور اخلاصِ عمل کا نام ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ خیرخواہی کس کے لیے ہونی چاہیے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی کتاب کے لیے، اس کے نبی کے لیے اور مسلمانوں کے ائمہ و سربراہان کے لیے۔“
امام ابو یعلیٰ نے فرمایا کہ ہمیں امام ابو بکر نے یہ روایت اسی سند کے ساتھ اسی طرح بیان کی ہے۔