❮
❯
حدیث نمبر: 3294
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ قَالَ : إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ ، أَوْ لَيُسَلِّطَنَّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ شِرَارَكُمْ ثُمَّ يَدْعُو خِيَارُكُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ " .
ترجمہ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”تم لازماً نیکی کا حکم دیتے رہنا اور برائی سے منع کرتے رہنا، بصورتِ دیگر اللہ عزوجل تم پر تمہارے بدترین اور شریر لوگوں کو مسلط کر دے گا، پھر تمہارے بہترین اور صالح لوگ اللہ کے حضور التجائیں کریں گے مگر ان کی دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی۔“
[تخریج: مسند احمد: 3294، اس کی سند میں ایک راوی مبہم (نامعلوم) ہے، نیز شریک القاضی حافظے کی بنا پر کلام ہے، لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے]۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 3294
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الأثر بهذا الإسناد فيه علتان: شريك، وهو صدوق يخطئ، وشيخه، وهو مبهم. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»