المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بالمعروف باب: نیکی کا حکم دینے کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ ، مَوْلَى أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مَرِيضٌ ، فَأَسْنَدَهُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَوْصِنَا . قَالَ : " إِنَّ الضَّلَالَةَ حَقَّ الضَّلَالَةِ أَنْ تَعْرِفَ مَا كُنْتَ تُنْكِرُهُ ، وَتُنْكِرَ مَا كُنْتَ تَعْرِفُهُ ، وَإِيَّاكَ وَالتَّلَوُّنَ فِي دِينِ اللهِ تَعَالَى " .سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام خالد بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے جب کہ وہ علیل تھے، انہوں نے انہیں سہارا دے کر اپنے ساتھ لگایا تو ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے درخواست کی کہ ہمیں کچھ وصیت فرمائیں، جس پر انہوں نے فرمایا: ”بے شک حقیقی اور مکمل گمراہی یہ ہے کہ تم ان چیزوں کو حق سمجھ کر قبول کرنے لگو جنہیں تم پہلے باطل سمجھ کر مسترد کرتے تھے، اور ان باتوں کا انکار کرنے لگو جنہیں تم پہلے حق کے طور پر پہچانتے تھے، اور خبردار! اللہ تعالیٰ کے دین میں رنگ بدلنے یعنی تلون مزاجی اور بے ثباتی سے بچ کر رہنا۔“
اس روایت کی سند جید ہے اور یہ کلام دیگر کتبِ حدیث میں بھی موقوفاً مروی ہے۔