المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بالمعروف باب: نیکی کا حکم دینے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ثَنَا هِشَامٌ عَنِ ابْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عِرْقِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ حَضَرَهُ شَيْءٌ ، فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا فَتَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ ، فَسَمِعْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ ; فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ اللهَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ قَبْلَ أَنْ تَدْعُوا إِلَيْهِ فَلَا يُجِيبُكُمْ ، وَتَسْأَلُونَهُ فَلَا يُعْطِيكُمْ ، وَتَسْتَنْصِرُونَهُ فَلَا يَنْصُرُكُمْ " .
قُلْتُ : مَا عَرَفْتُ عُثْمَانَ بْنَ عُرْوَةَ بْنِ هَانِئٍ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے آپ ﷺ کے بشرہ مبارک سے پہچان لیا کہ آپ ﷺ کو کوئی اہم معاملہ درپیش ہے، پس آپ ﷺ نے کسی سے کوئی کلام نہیں کیا اور وضو فرما کر باہر تشریف لے گئے، چنانچہ میں نے حجروں کی جانب سے غور سے سنا تو آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے پایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے لوگو! تم نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے روکا کرو، اس سے قبل کہ وہ وقت آ جائے کہ تم اسے (اللہ کو) پکارو اور وہ تمہاری دعا قبول نہ کرے، اور تم اس سے سوال کرو اور وہ تمہیں عطا نہ کرے، اور تم اس سے (دشمن کے خلاف) مدد چاہو اور وہ تمہاری نصرت نہ فرمائے۔“
میں (مؤلف) کہتا ہوں: میں عثمان بن عروہ بن ہانی کو نہیں پہچانتا (یعنی وہ میرے نزدیک معروف راوی نہیں ہیں)۔