المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بالمعروف باب: نیکی کا حکم دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْفَزَارِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، رَدَّ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِرَاءَةَ آيَةٍ ، فَقَالَ أُبَيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ يُلْهِيكَ يَا عُمَرُ الصَّفْقُ بِالْبَقِيعِ . فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : صَدَقْتَ ، إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُجَرِّبَكُمْ هَلْ فِيكُمْ مَنْ يَقُولُ الْحَقَّ ، فَلَا خَيْرَ فِي أَمِيرٍ لَا يُقَالُ عِنْدَهُ الْحَقُّ وَلَا يَقُولُهُ .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی ایک آیت کی قراءت پر اعتراض کیا، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یقیناً میں نے یہ آیت رسول اللہ ﷺ سے براہِ راست سنی ہے جبکہ اے عمر! بقیع کے بازار میں خرید و فروخت اور تجارتی مصروفیات نے آپ کو اس سے غافل کر رکھا تھا۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ نے سچ فرمایا، میرا مقصد تو محض تم لوگوں کا امتحان لینا تھا کہ کیا تم میں کوئی ایسا شخص موجود ہے جو حق بات کہہ سکے، کیونکہ اس حکمران میں کوئی خیر و بھلائی نہیں جس کے سامنے حق بات نہ کہی جائے اور نہ ہی وہ خود حق بات بیان کرے۔“
یہ روایت منقطع ہے۔