المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بالمعروف باب: نیکی کا حکم دینے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : أَنْبَأَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ يَقُولُ : إِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، نَهَى عَنِ الْحُكْرَةِ ، فَلَمْ يَزَلْ رَجُلٌ يَسْتَشْفِعُ حَتَّى يَتْرُكَ مَوْلَاهُ ، فَدَخَلَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ السُّوقَ فَإِذَا هُوَ بِمَوَالِي بَنِي أُمَيَّةَ يَحْتَكِرُونَ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ ، إِذَا هُوَ بِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُقْبِلًا عَلَى بَغْلَةٍ أَوْ دَابَّةٍ فَمَشَى إِلَيْهِ فَأَخَذَ بِلِجَامِ الْبَغْلَةِ فَهَزَّهُ هَزًّا شَدِيدًا وَأُرَاهُ قَالَ لَهُ : إِنَّكَ وَإِنَّكَ ، غَيْرَ أَنَّهُ اشْتَدَّ عَلَيْهِ فِي الْقَوْلِ ، ثُمَّ تَرَكَهُ فَلَمَّا نَزَلَ أُلْقِيَتْ لَهُ وِسَادَةٌ فَجَلَسَ عَلَيْهَا ، وَجَاءَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : وَاللهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي لَأَعْلَمُ إِنَّ لَكَ عَلَيَّ حَقًّا ، وَلَكِنِّي رَجُلٌ إِذَا رَأَيْتُ الْمُنْكَرَ لَمْ أَصْبِرْ . فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اجْلِسْ ، فَأَجْلَسَهُ عَلَى الْوِسَادَةِ الَّتِي إِلَى جَنْبِهِ .سیدنا ابو سعید مولیٰ ابو اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ذخیرہ اندوزی سے منع فرما رکھا تھا، مگر ایک شخص مسلسل سفارشیں کرتا رہا یہاں تک کہ (سفارش کے زور پر) اس نے اپنے مولیٰ کو اس سے مستثنیٰ کروا لیا۔ پھر سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بازار میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ بنو امیہ کے غلام ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں، وہ ان پر برس پڑے اور انہیں مارنا شروع کر دیا۔ ابھی وہ اسی حالت میں تھے کہ اچانک دیکھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایک خچر یا کسی چوپائے پر سوار تشریف لا رہے ہیں، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ان کی طرف بڑھے، خچر کی لگام تھامی اور اسے نہایت زور دار جھٹکا دیا اور (راوی کا گمان ہے کہ) ان سے کہا: ”آپ ایسے ہیں اور آپ ویسے ہیں“ غرض یہ کہ ان سے کلام میں بڑی سختی برتی۔ پھر انہیں چھوڑ دیا، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سواری سے نیچے اترے تو ان کے لیے ایک تکیہ بچھایا گیا جس پر وہ تشریف فرما ہوئے، پھر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور انہیں سلام کیا اور عرض کیا: ”اللہ کی قسم! اے امیر المؤمنین، میں یقیناً جانتا ہوں کہ آپ کا مجھ پر حق ہے، لیکن میں ایک ایسا شخص ہوں کہ جب کوئی منکر (ناپسندیدہ و خلافِ شرع کام) دیکھتا ہوں تو مجھ سے صبر نہیں ہو پاتا۔“ اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”تشریف رکھیے“ اور انہیں اپنے پہلو میں اسی تکیے پر بٹھا لیا۔
[مسند احمد: 3288، إسناده صحيح]