المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ تَقْدِيمِ عمل الآخرة عَلَى عمل الدنيا باب: دنیا کے کام کے مقابلے میں آخرت کے عمل کو مقدم رکھنے اور اسے ترجیح دینے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ ، ثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : لَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْ إِبْلِيسَ جُنُودُهُ فَقَالُوا : لَقَدْ بُعِثَ نَبِيٌّ وَأُخْرِجَتْ أُمَّةٌ . فَقَالَ : أَيُحِبُّونَ الدُّنْيَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : لَئِنْ كَانُوا يُحِبُّونَهَا مَا أُبَالِي أَنْ لَا يَعْبُدُوا الْأَوْثَانَ ، إِنَّهُمْ لَنْ يَنْفَلِتُوا مِنِّي وَأَنَا أَغْدُو عَلَيْهِمْ وَأَرُوحُ بِثَلَاثٍ : أَخْذِ الْمَالِ مِنْ غَيْرِ حَقِّهِ ، وَإِنْفَاقِهِ فِي غَيْرِ حَقِّهِ ، وَإِمْسَاكِهِ عَنْ حَقِّهِ ، وَالشَّرُّ كُلُّهُ لِهَذَا تَبَعٌ .سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو ابلیس کے پاس اس کے لشکر کے کارندے آئے اور کہنے لگے: یقیناً ایک نبی مبعوث ہو چکے ہیں اور ایک (عظیم) امت ظہور پذیر ہو چکی ہے۔ ابلیس نے دریافت کیا: کیا وہ دنیا سے رغبت و محبت رکھتے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ ابلیس کہنے لگا: اگر وہ دنیا کے دلدادہ ہیں تو پھر مجھے اس امر کی قطعاً کوئی پروا نہیں کہ وہ بتوں کی پوجا نہ کریں، کیونکہ وہ میرے چنگل سے ہرگز نہیں نکل سکیں گے؛ میں ان پر صبح و شام تین باتوں کے ذریعے مسلط رہوں گا: مال کو اس کے ناحق طریقے سے حاصل کرنا، اسے غلط جگہ پر خرچ کرنا اور اس کے شرعی حقوق کی ادائیگی سے ہاتھ روک لینا؛ اور کائنات کا تمام تر شر انہی خصلتوں کے تابع ہے۔“
مسند ابی یعلی: 3287، مجمع الزوائد: 10/248، وقال الہیثمی: رواہ ابو یعلی والطبرانی فی الکبیر ورجالہما ثقات۔