المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ تَقْدِيمِ عمل الآخرة عَلَى عمل الدنيا باب: دنیا کے کام کے مقابلے میں آخرت کے عمل کو مقدم رکھنے اور اسے ترجیح دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3286
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا يَكْفِينِي مِنَ الدُّنْيَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا سَدَّ جَوْعَتَكَ ، وَوَارَى عَوْرَتَكَ ، وَإِنْ كَانَ لَكَ بَيْتٌ يُظِلُّكَ ، أَوْ دَابَّةٌ تَرْكَبُهَا فَبَخٍ بَخٍ " .ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ (نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام) سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! دنیا کے ساز و سامان میں سے میرے لیے کتنا کافی ہے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اتنا جو تمہاری بھوک مٹا دے اور تمہارے جسم (ستر) کو ڈھانپ لے، اور اگر تمہارے پاس ایسا گھر ہو جو تمہیں سایہ فراہم کرے یا کوئی ایسی سواری میسر ہو جس پر تم سوار ہو سکو، تو پھر تو کیا ہی خوب اور بہت ہی عمدہ بات ہے۔“
اس حدیث کی سند میں حسن بن عمارہ نامی راوی متروک ہے جس کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: (مسند احمد: 22394، شعب الایمان للبیہقی: 10375)۔