❮
❯
حدیث نمبر: 3286
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا يَكْفِينِي مِنَ الدُّنْيَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا سَدَّ جَوْعَتَكَ ، وَوَارَى عَوْرَتَكَ ، وَإِنْ كَانَ لَكَ بَيْتٌ يُظِلُّكَ ، أَوْ دَابَّةٌ تَرْكَبُهَا فَبَخٍ بَخٍ " .
ترجمہ

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ (نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام) سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! دنیا کے ساز و سامان میں سے میرے لیے کتنا کافی ہے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اتنا جو تمہاری بھوک مٹا دے اور تمہارے جسم (ستر) کو ڈھانپ لے، اور اگر تمہارے پاس ایسا گھر ہو جو تمہیں سایہ فراہم کرے یا کوئی ایسی سواری میسر ہو جس پر تم سوار ہو سکو، تو پھر تو کیا ہی خوب اور بہت ہی عمدہ بات ہے۔“
اس حدیث کی سند میں حسن بن عمارہ نامی راوی متروک ہے جس کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: (مسند احمد: 22394، شعب الایمان للبیہقی: 10375)۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 3286
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإسناد ضعيف جدًا، آفته الحسن بن عُمارة، وهو متروك الحديث، وفيه انقطاع، سالم بن أبي الجَعْد لم يسمع من ثوبان رضي الله عنه. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 17856، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7273»