المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ تَقْدِيمِ عمل الآخرة عَلَى عمل الدنيا باب: دنیا کے کام کے مقابلے میں آخرت کے عمل کو مقدم رکھنے اور اسے ترجیح دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3285
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ تَمْنَعُ مِنْ سَخَطِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَمْ يُؤْثِرُوا دُنْيَاهُمْ عَلَى دِينِهِمْ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : كَذَبْتُمْ " .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کلمہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ اللہ عزوجل کی ناراضی و غضب کو اس وقت تک روکتا ہے جب تک کہ لوگ اپنی دنیا کو اپنے دین پر ترجیح نہیں دیتے، لیکن جب وہ ایسا کرنے لگیں (یعنی دنیا کی خاطر دین کو پسِ پشت ڈال دیں) اور پھر کہیں: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ»، تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”تم نے جھوٹ بولا ہے۔““
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں عمر بن حمزہ العمری نامی راوی ہے جس کی وجہ سے محدثین نے اس کی تضعیف کی ہے۔